جلیل عالی ۔۔۔ سامانِ شگفتِ جاں

سامانِ شگفتِ جاں
۔۔۔۔
مرے جاں تاب مہتابو!
تمہاری زندگانی کی
ہلالی رُت
بڑی شدت سے یاد آتی ہے

تم میری نگاہوں میں
امڈتی چاہتوں کے
ایک ہلکے سے اشارے پر
قلانچیں بھرتے آتے تھے
مری گردن میں
اپنی ننھی منی نرم باہیں ڈال کر
مجھ سے لپٹ جاتے تھے

کیسے والہانہ،
کس قدر بے اختیارانہ
مری آغوش میں آتے
مرے اک اک بُنِ مُو میں
سماتے تھے
سماعت اْس گھڑی
تینوں دلوں کی دھڑکنیں
اک ساتھ سنتی تھی

سواری کے لیے
کس دھونس سے
گھوڑا بنا لیتے تھے ابُّو کو
تھکن ساری اتر جاتی تھی لمحوں میں

سرِ شب نیند سے پہلے
تم اپنی پیاری ماما(میری مانا)
اور میرے درمیاں
حیرت بھری معصوم باتوں،
سادہ و مشکل سوالوں کا
چمن آباد کر دیتے تھے
تن من شاد کر دیتے تھے

اک سیلاب یادوں کا
دروں یلغار کرتا ہے
دل اِس خواہش سے بھرتا ہے
کسی تدبیر لوٹ آئیں
رسیلی عمر کے وہ دن
کبھی واپس جو آ سکتے نہیں
کیسی پگلتائی تمنا ہے!

مرے احساس پر
کچھ بے دلی طاری بھی ہوتی ہے
مگر یہ سوچ کر
جی کو قرار آتا ہے
سرشاری بھی ہوتی ہے
کہ ناممکن اگر ممکن بھی ہو جائے
وہ موسم لوٹ بھی آئے
تو تم دونوں نے اپنے گرد
جو جھرمٹ ستاروں کا بسایا ہے
محبت کے دھنک رنگوں کا
جو میلہ لگایا ہے
زوالِ عمر کے صحرا میں
یہ سر سبز نخلستاں
خیابانِ بہشتِ دل
یہ سامانِ شگفتِ جاں
کہاں ہو گا!

Related posts

Leave a Comment